Advertisment

https://www.highrevenuegate.com/yngsgwcqf?key=569b6da6aa47358022f3b3136793b69a

Senond Menu

پرینکا چوپڑہ آسکر ایوارڈز کی میزبان


فلمی صنعت بالی وڈ کی اداکارہ پرینکا چوپڑہ کے لیے نیا سال بظاہر نئی بلندیاں لے کر آیا ہے۔
پہلے امریکی سیریئل ’کوانٹیکو‘ میں اداکاری کے لیے ’پیپلز چوائس ایوارڈ‘ اور پھر بالی وڈ کی فلم ’باجی راؤ مستانی‘ کے لیے ایوارڈ۔
اور اب انٹرٹینمنٹ کی دنیا کی سب سے بڑی تقریب آسکر میں ان کا نام میزبانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ وہ بھارت سے اکیڈمی ایوارڈ میں باضابطہ طور پر شامل ہونے والی واحد شخصیت ہیں کیونکہ اس بار بھارت سے نامزد فلم ’کورٹ‘ دوسرے ممالک کی بہترین پانچ فلموں میں جگہ نہیں بنا سکی۔
 
  گذشتہ دنوں انھیں بالی وڈ کی فلم باجی راؤ مستانی کے لیے سراہا گیا
اپنے نام کے اعلان کے بعد پرینکا چوپڑہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا: ’دی اکیڈمی کے لیے بے قرار ہوں۔ یہ دیوانہ بنا دینے والی رات ہوگی۔‘
بالی وڈ اداکارہ دیا مرزا نے پرینکا کے نام کے اعلان کے بعد ٹویٹ کیا: ’بڑے خواب دیکھنے والی وہ ننھی لڑکی کہاں کہاں جا رہی ہے۔ پرینکا چوپڑہ تمارے لیے یہ سال کس شاندار طور پر شروع ہوا ہے۔‘
جواب میں پرینکا نے لکھا: ’ایسا یقیناً ہوا ہے۔ دیا مرزا میں خود کو بہت خوش بخت محسوس کرتی ہوں۔ شاید نیند کی کمی اور ایک برے اعظم سے دوسرے برے اعظم آنے جانے کا یہ نتیجہ ہے ۔۔۔‘
 
 
 کوانٹیکو کے لیے انھیں پیپلز چوائس ایوارڈ ملا تھا
پرینکا کو سوشل میڈیا پر مبارکباد دی جا رہی ہے اور وہ اپنے مداح کا شکریہ بھی ادا کر رہی ہیں۔
ایسی ہی ایک مبارکباد کے جواب میں انھوں نے لکھا: ’اب موقعے کی مناسبت سے بہترین لباس کی تلاش شروع ہوتی ہے۔‘
خیال رہے کہ آسکر یعنی اکیڈمی ایوارڈز رواں ماہ کی 28 تاریخ کو کیلیفورنیا کے شہر ہالی وڈ کے ڈولبی تھیٹر میں منعقد کیا جائے گا۔

حادثے میں بچ جانا معجزہ ہے، عائشہ عمر



گزشتہ ہفتے ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہونے والی پاکستانی اداکارہ عائشہ عمر نے فیس بک پر ایک بیان میں مداحوں اور دوست اظفر رحمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حادثے میں اپنے بچ جانے کو معجزہ قرار دیا۔
معروف ڈرامہ 'بلبلے' میں اپنے کردار 'خوبصورت' سے شہرت پانے والی عائشہ عمر اور اداکار اظفر رحمٰن کراچی سے حیدرآباد جاتے ہوئے سپرہائی وے پر ٹریفک حادثے میں شدید زخمی ہو گئے تھے.

اظفر رحمٰن کو حادثے کے فوری بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا تاہم عائشہ کو آج ہسپتال سے گھر رخصت کیا گیا۔
حادثے کے بعد عائشہ عمر نے اپنے مداحوں سے رابطے کے لیے فیس بک کا سہارا لیا جہاں ان کا کہنا تھا کہ ان کا سیدھا ہاتھ شدید زخمی ہے جس کی وجہ سے انہیں روانی سے لکھنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔
اپنے 'اسٹیٹس' میں ان کا کہنا تھا کہ ’میرے سیدھے کندھے اور ہاتھ پر کافی گہری چوٹیں آئی ہیں۔ گزرے ہوئے تین روز میرے لیے کافی دردناک ثابت ہوئے اور میں دو دن سے سو بھی نہیں پائی ہوں۔ آخر کار میں کچھ بہتری کے بعد ہسپتال سے اپنے گھر واپس آئی ہوں‘۔
عائشہ کے مطابق’حادثہ کے بعد میں ہوش میں تھیں جس کی وجہ سے شدید تکلیف برداشت کرنا پڑی۔ میں اس حادثے میں زندہ بچ جانے سے کافی حیران تھی اور جلد سے جلد اس گاڑی سے باہر آنا چاہتی تھی لیکن اپنے ہاتھ کی چوٹ کے باعث کسی کو ہاتھ نہیں لگانے دیا‘۔

لاس ویگاس میں 'چند سیکنڈ' کی مس یونیورس



خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطاق مِس یونیورس کے انتخاب کے لیے منعقدہ تقریب میں فاتح حسینہ کے نام کا اعلان کرتے ہوئے میزبان اسٹیو ہاروے نے غلطی سے مس یونیورس کے طور پر مِس کولمبیا کا نام لے لیا، لیکن فوراً ہی اپنی غلطی سدھاری اور فلپائن کی حسینہ پیا الونزو ورٹزبیج کو حسینہ کائنات (مِس یونیورس) کے خطاب سے نوازا گیا۔
اس طرح مِس کولمبیا آریاڈنا گوٹیئرز آریوالو جہاں اپنا نام سن کر حیران رہ گئیں، وہیں حیران پریشان سی مس فلپائن، گذشتہ برس کی مس یونیورس کے شانہ بشانہ چلتی ہوئی اسٹیج پر آگے آئیں،جنھوں نے اپنا تاج اتار کر مِس فلپائن پیا الونزو ورٹزبیج کو پہنا دیا۔
تقریب کے بعد میزبان ہاروے نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کارڈ کو درست طرح سے نہیں پڑھا۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی مجھ سے زیادہ برا محسوس نہیں کیا ہوگا۔
میزبان ہاروے نے بعد ازاں ٹوئٹر پر اپنی غلطی کی معافی مانگی۔

’کامیڈی نائٹس ود کپل‘ شو بند ہونے کا امکان؟



ہندوستان کا مقبول مزاحیہ شو 'کامیڈی نائٹس ود کپل' 2016 جنوری میں بند ہونے کا امکان ہے جس کی وجہ اس کے میزبان کپل شرما کی چینل انتظامیہ سے ناراضگی ہے۔
اداکار اور میزبان کپل شرما کلرز ٹیلی ویژن پر دکھایا جانے والے مزاحیہ شو کامیڈی نائٹس ود کپل کی نمائش کامیابی کے ساتھ مسلسل تین سالوں سے کر رہے ہیں لیکن اب شو کے میزبان اور ٹیم اس کو بہت جلد بند کر رہے ہیں۔
انڈین میڈیا کی ایک خبر کے مطابق کپل شرما نے چینل کے سرد مہرانہ سلوک کو دیکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس شو کی آخری قسط 17 جنوری کو دکھائی جائے گی۔
خبر کے مطابق شو کو بند کرنے کا فیصلہ اس کی ٹیم نے لیا ہے جس کی وجہ چینل انتظامیہ کا ان کے ساتھ سوتیلا رویہ ہے۔ ٹیم کے افراد کے مطابق چینل نئے کامیڈی شو کامیڈی نائٹس بچاؤ کی تشہیر زیادہ بہتر طریقے سے کر رہا ہے اور ان کے شو کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔
شو سے تعلق رکھنے والے ایک افراد کے مطابق اس نئے شو کو مختلف انداز میں لانے کا ارادہ پیش کیا گیا تھا جبکہ اس میں زیادہ تر باتیں کامیڈی نائٹس ود کپل کی نقل کی جارہی ہے۔
اس خبر کے متعلق کپل شرما کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کی ٹیم اس شو کو دسمبر میں بند کر رہے تھے تاہم انتظامیہ کی گزارش پر وہ اسے جنوری تک جاری رکھیں گے۔
کپل کا مزید کہنا تھا کہ وہ اس شو کے ذریعے تین سالوں سے ناظرین کو انٹرٹین کر رہے ہیں اور جب شائقین کو ان کے شو کی عادت ہوگئی تو انتظامیہ ایک نیا شو مدمقابل لے آئی، اس شو پر آنے والے مہمانوں کو دوسرے شو پر آنے کی بھی دعوت دے دی گئی۔
کپل کا کہنا تھا کہ نئے شو بنانے میں کوئی خرابی نہیں لیکن ایک ہی انداز کے دو شوز ایک ہی چینل پر دکھانا غلط ہے اس لیے وہ اور ان کی ٹیم اس شو کو بند کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ کپل شرما کا مزاحیہ شو صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ پاکستان میں بھی کافی مقبول ہے، اس شو میں بولی وڈ کے بڑے اداکاروں نے بھی شرکت کی ہے جن میں امیتابھ بچن، شاہ رخ خان اور دپیکا پڈوکون شامل ہیں۔

متنازع اشتہار پر نرگس فخری کا جواب آگیا



دو روز قبل پاکستان کے نامور اخبارات میں اپنے متنازع پوز پر ناصرف ہندوستانی اداکارہ نرگس فخری کو بلکہ اشتہار دینے والی کمپنی ’موبی لنک‘ کو بھی سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
موبی لنک کے ’جاز ایکس‘ فونز کی فروخت کے لیے اشتہاری مہم میں نرگس فخری کی نازیبا تصویر کا سہارا لیا گیا، جس میں انہیں سرخ کپڑوں میں ہاتھ میں فون پکڑے پیٹ کے بل لیٹا دکھایا گیا۔
اس نازیبا اشتہار پر مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے سوشل میڈیا پر نہ صرف ماڈل بلکہ اشتہار دینے والی کمپنی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سستی شہرت حاصل کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا۔

ماورا کی بولی وڈ فلم کا گانا ریلیز




پاکستانی اداکارہ ماورا حسین کی پہلی بولی وڈ فلم ’صنم تیری قسم‘ کی ریلیز جلد متوقع ہے اور اب اس کا پہلا گانا ریلیز کردیا گیا ہے۔
ویڈیو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فلم کے ٹریلر کی طرح یہ گانا بھی کسی رونے کے مقابلے سے کم نہیں۔
گانے سے لی گئی کچھ جھلکیاں یہاں دیکھیں:










گانے کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کسی پرانے تھیٹر میں فلمایا گیا ہے جس میں ماورا ایک خوبصورت ساڑھی پہنے نظر آرہی ہیں۔
اس فلم میں ماورا ’سارو‘ جبکہ اداکار ہرش ’اندر‘ نامی کردار ادا کر رہے ہیں۔
فلم کا پہلا گانا کافی خوبصورت موسیقی کے ساتھ بنایا گیا ہے تاہم دونوں اداکاروں کے درمیان کی کیمسٹری کافی کمزور نظر آئی۔
’صنم تیری قسم‘ گانا گلوکار انکیت تیواری نے گایا ہے جو اس سے قبل اپنے بہترین گانوں کے باعث فلم فئیر ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے مقبول گانوں میں بولی وڈ فلم ’ایک ولن‘ کا گانا ’گلیاں‘ اور ’عاشقی 2‘ کا گانا ’سن رہا ہے نا تو‘ شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستانی فلم ’بن روئے‘ کا بھی ایک گانا ’او یارا‘ گایا تھا جو کہ کافی مقبول ہوا۔
فلم ’صنم تیری قسم‘ 5 فروری 2016 کو سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

’باجی راؤ مستانی سے مقابلہ نہ ہوتا تو دل والے زیادہ بزنس کرتی‘



بولی وڈ کنگ خان شاہ رخ خان کا اپنی حال ہی میں ریلیز فلم ’دل والے‘ کے باکس آفس دوڑ کے حوالے سے کہنا ہے کہ اگر فلم ’باجی راؤ مستانی‘ ساتھ ریلیز نہ ہوتی تو فلم اور بہتر کمائی کر سکتی تھی۔
بولی وڈ لائف کو ایک انٹرویو میں شاہ رخ خان کا کہنا تھا کہ دونوں فلمیں ایک ہی تاریخ پر ریلیز کی گئیں جس کے باعث جس کے باعث دونوں کی کمائی متاثر ہوئی تاہم اتنا فرق نہیں آیا جتنا انہوں نے سوچا تھا۔
شاہ رخ کا کہنا تھا ’ایک پروڈیوسر ہونے کے باعث میں باکس آفس پر فلموں کی کمائی کے بارے میں کافی اچھے انداز میں جانتا ہوں، ہماری فلم نے اپنے ریلیز کے روز کافی اچھی کمائی کی اور فلم باجی راؤ بھی اچھی رہی۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا دونوں ہی فلمیں نہایت مختلف ہیں جس کے باعث ان کی برابری نہیں کی جاسکتی‘۔
شاہ رخ کا دو فلموں کے ساتھ ریلیز پر کہنا تھا کہ اگر فلم اکیلے ریلیز ہوتی تو یہ بہترین ردعمل حاصل کرتی۔
یاد رہے کہ فلم دل والے نے اپنی ریلیز کے پہلے روز ’باجی راؤ مستانی‘ سے زیادہ کمائی کی تھی لیکن فلم کے چوتھے روز باجی راؤ مستانی نے باکس آفس کی دوڑ میں 'دل والے' کو پیچھے چھوڑ دیا۔

پریانکا کی فلم ’جے گنگا جل‘ کے ٹریلر کی دھوم



بولی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کی آنے والی فلم ’جے گنگا جل‘ کا ٹریلر آج ریلیز کردیا گیا جسے سوشل میڈیا پر خوب پزیرائی مل رہی ہے۔
پریانکا بولی وڈ کے ساتھ ساتھ ہولی وڈ میں بھی اپنی اداکاری کا لوہا منوا چکی ہیں اور ان کی آنے والی فلم جے گنگا جل کے ٹریلر کو بھی شاندار ردعمل مل رہا ہے۔
ہدایت کار پرکاش جھا اور پریانکا نے آج ممبئی میں ٹریلر لانچ کی تقریب منعقد کی۔

فوٹو اے ایف پی
فلم ’جے گنگا جل‘ 2003 میں بنی فلم ’گنگا جل‘ کا سیکول ہے جس میں اجے دیوگن نے پولیس افسر کا اہم کردار ادا کیا تھا۔
اس فلم کی خاص بات یہ ہے کہ فلم کے ہدایت کار پرکاش جھا نے بھی اس فلم میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

فلم ریویو دل والے : شاہ رخ خان کی کمزور فلم



مگر مسئلہ یہ ہے کہ گاڑیوں کی یہ نامعقولیت باقی فلم کے لیے خطرہ، کہانی کے لیے نقصان دہ اور ناظرین کی لگ بھگ تمام توجہ مرکزی کرداروں سے ہٹا دیتی ہے۔ میں لگ بھگ اس لیے کہہ رہی ہوں کیونکہ ایسا ناممکن ہے، شاہ رخ خان اور کاجول جیسے اداروں کی اسکرین پر موجودگی کسی سینما میں طوفان سے کم نہیں جو ممکنہ طور ہماری توجہ کسی اور جانب مرکوز نہیں ہونے دیتی۔ اسکرین ان کی موجودگی سے جگمگا اٹھتی ہے، وہ کمزور اسکرپٹ کو بھی گہرائی اور معنی دیتے ہیں اور کبھی بھی ناظرین کی توجہ پر غلبہ پانے میں ناکام نہیں ہوتے۔
کاجول خاص طور پر نمایاں ہیں جبکہ شاہ رخ خان نے ثابت کیا ہے کہ وہ اب بھی جانتے ہیں کہ کس طرح دیکھنے والوں کو اپنی مٹھی میں کرنا ہے۔

دل والے کا انحصار ہی شاہ رخ اور کاجول کی جوڑی پر ہے

فلم دل والے میں راج (شاہ رخ خان) اور میرا (کاجول) مخالف جرائم پیشہ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو محبت اور انتقام کے المناک چکر میں ایسے پھنس جاتے ہیں جو ان کی محبت کے لیے اس وقت بنیادی رکاوٹ بن جاتا ہے جب ان کے چھوٹے بہن بھائی ایشیتا (کریتی سنن) اور ویر (ورون دھون) ایک دوسرے سے تعلق بڑھاتے ہیں۔
آخرکار یہ بولی وڈ ہے یہ حقیقی سینما نہیں، تو اس طرح کے اتفاقات پہلے فریم میں متوقع ہوتے ہیں۔ درحقیقت پوری فلم فرسودہ التفات اور شاہ رخ خان کی مقبول ترین فلموں کے حوالوں پر گھومتی ہے۔
ہمارے سامنے راج اور میرا کی کہانی فلیش بیک میں چلتی ہے اور اس موقع پر دیکھنے والوں کی توجہ کو گرفت میں لے لیتی ہے، پہلے خواب کے سیکونس میں راج کو گولی لگتی ہے پھر اچانک بے وفائی اور پھر بتدریج ان رازون کا انکشاف جس کے باعث راج اور میرا پندرہ سال پہلے جدا ہوگئے تھے۔
کریتی سنن ایشیتا کے کردار میں اکثر جگہوں پر سجاوٹی شخصیت ہی نظر آئیں مگر ورون دھون ویر کے روپ میں پرفیکٹ رہے۔ ویر فلم کی ہائی لائٹس میں سے ایک ہے۔ ورون میں کچھ ایسا ہے جس کے لیے گووندا کبھی مشہور تھے یعنی کھلنڈرے کردار کو ادا کرنے کی اہلیت۔ اسی طرح جونی لیور نے منی بھائی اور پنکج مشرا نے آسکر بھائی کے کرداروں میں بھرپور مزاح پیش کیا مگر بومن ایرانی کامیڈی اور ولن دونوں شعبوں میں زیادہ اچھے نہیں رہے۔

کریتی سنن ایک سجاوٹی کردار میں نظر آئی تاہم ورون دھون نے پرفیکٹ رہے

اگرچہ شاہ رخ اور کاجول کی جوڑی نے اپنا جادو برقرار رکھا مگر باقی فلم کمزور اسکرپٹ، بہت زیادہ غیر ضروری ایکشن مناظر اور ناقص ایڈیٹنگ کے باعث کچھ خاص نہیں رہی۔ روہت شیٹھی کی شاہ رخ کے ساتھ سابقہ فلم چنائی ایکسپریس تیز رفتار ایکشن، چھوٹے مناظر اور ایک ایسا اسکرپٹ جس پر کسی نے صحیح معنوں میں کام کیا، جیسی وجوہات نے دیکھنے کا عمل زیادہ ہموار کردیا تھ۔ حالیہ دنوں کی متعدد بولی وڈ فلموں کی طرح اس میں کچھ مناظر اور مرکزی کرداروں کے بیشتر ڈائیلاگ ٹھیک ٹھاک ہیں مگر بنیادی کہانی میں تسلسل کی کمی نے سب چیزوں کو ایڈہاک بنا کر رکھ دیا ہے۔
پاکستان کی بہترین فلم جوانی پھر نہیں آنی، کو دیکھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ بولی وڈ کو بھی اسکرپٹ کے لیے بہتر انتظام کرنا چاہئے جیسا واسع چوہدری نے کیا جو جانتے ہیں کہ کس طرح دیکھنے والوں کو گرویدہ بنایا جاسکتا ہے۔
تاہم دل والے کے گانے سب سے زیادہ مایوسی کا باعث بنے ہیں۔ اگرچہ گانا 'گیروا' اس حد تک سریلا اور چپک جانے والا ہے کہ سینما ہال سے نکلنے کے بعد بھی آپ کے ذہن میں رہے، مگر اسے اور دیگر گانوں کو جس طرح فلمایا گیا ہے اسے دیکھ کہ یہ مذاق حقیقت لگتا ہے کہ ان میں ونڈوز 8 کو پس منظر کے لیے استعمال کیا گیا ہے، اس شعبے میں تخلیل کی مکمل کمی نظر آتی ہے۔


باصلاحیت کاسٹ اور متاثر کن بجٹ کے امتزاج کے ساتھ بیشتر ڈائریکٹرز کمال کر دکھاتے ہیں، لہذا دل والے کو دیکھ کر ہر کوئی حیران ہوتا ہے کہ آخر روہت شیٹھی کچھ بہتر کیوں نہیں کرسکے۔
اس کا ٹائٹل دل والے دل والے دلہنیا لے جائیں گے کے راج اور سمرن سے محبت کرنے والے ناظرین کو باہر لانے کی حکمت عملی نظر آتی ہے، تاہم یہ ایسی ہی غلطی ہے جیسے کسی کباڑ میں پکاسو کی پینٹنگ کو تلاش کیا جائے یا کسی ویجیٹرین ریسٹورنٹ میں گوشت کا آرڈر دیا جائے۔ اگر کسی کو دل والے دلہنیا لے جائیں گے کے سیکوئل کی توقع ہے تو انہیں اس وقت تک انتظار کرنا ہوگا جب تک آدیتیہ چوپڑہ اسے ڈائریکٹ نہیں کرتے۔ روہت شیٹھی لطافت اور جذباتی احساسات کی گہرائی پر مبنی فلموں کی تیاری کے لیے مقبول نہیں مگر وہ ایسا کام ضرور کرتے ہیں جس سے بیشتر لوگوں کو مطمئن کرکے پیسہ کمایا جاسکے۔
تمام تر خامیوں کے باوجود دل والے ہجوم کو سینما گھروں تک لانے میں اس لیے کامیاب رہی کیونکہ یہ چند گھنٹے گزارنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے خاص طور پر اگر آپ شاہ رخ اور کاجول کے پرستار ہو تو۔ یہ آپ کو بہت زیادہ تفریح فراہم کرتی ہے مگر اس میں بہت کچھ شامل کیا جانا چاہئے تھا۔
شاہ رخ خان پر خصوصی نوٹ : شاہ رخ کے پرستار حالیہ دنوں میں ہمیشہ ہی کچھ مایوس ہوتے ہیں کیونکہ ہم ایک بار پھر ان کا جادو دیکھنا چاہتے ہیں مگر ہمارے پسندیدہ اسٹار اس میں اب دلچسپی نہیں رکھتے۔ فلم بین بہت زیادہ توقعات تو نہیں رکھتے مگر یہ کہنا پڑے گا سلمان خان اپنی ایسی منفرد موجودگی ثابت کرتے ہیں جو ان کے پرستاروں کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں شاہ رخ اپنی ہی صلاحیت کو گھٹا رہے ہیں۔ لوگ بولی وڈ کے باصلاحیت ترین اداکاروں میں شامل اس اسٹار سے زیادہ کی توقع کرتے ہیں۔

جاز ایکس: سستی شہرت کی ناکام کوشش؟



موبی لنک کی نئی اشتہاری مہم میں کوئی بنیادی پیغام یا برانڈ سٹوری نہیں، بلکہ اس میں ایک پرانی ترکیب کا سہارا لیا گیا ہے۔
’ایکس فونز‘ فروخت کرنے کیلئے جاز کی اشتہاری مہم ناصرف بدمزہ ، ذو معنی اور بے ذوق ہے بلکہ کئی قارئین کے لیے تشویش ناک حد تک اشتہار میں نازیبا تصویر استعمال کی گئی ہے۔
موبی لنک نے اشتہارات کی دنیا میں سب سے پرانی ترکیب پر انحصار کرتے ہوئے بولی وڈ اداکارہ نرگس فخری کی خدمات حاصل کیں۔
اشتہار میں نرگس سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ ہمیں ایک انجان موبائل فون خریدنے کی ترغیب دیں گی لیکن کیا یہ مایوس کن مارکیٹنگ صارفین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی؟  


اشتہار میں نا صرف خواتین کا غلط استعما ل کیا گیا بلکہ اس میں کمپنی بھی صارف کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اشتہار میں جس طرح نرگس کو مرکز بنایا گیا ، اس کی موبائل ڈیوائس سے کوئی مطابقت بنتی نظر نہیں آئی۔
اشتہار بنانے والے اتنا تردد بھی نہیں کیا کہ ناظرین کو موبائل ڈیوائس کے فیچرز سے آگاہ کیا جائے۔وہ بھول گئے کہ یہ موبائل ڈیوائس آئی فون کی طرح پہلے سے اپنی کلاس نہیں رکھتی۔
انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بناتے کہ موبی لنک کے نئے فون کو کہیں کم تر نہ سمجھا جائے۔
ایکس فون کوایک ہیجان انگیز اور سستے فون کے طور پر پیش کیا گیا اور ایسا لگتا ہے کہ اس فون کا ہدف (ٹارگٹ آڈینس) ایک کالج جانے والی لڑکی ہے۔
برانڈ کے کرتا دھرتاؤں نےیہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس فون کو استعمال کرنے والا جنسی طور پر زیادہ پرکشش نظر آئے گا۔ تاہم ، بہت سے صارفین اس ترکیب کو بھانپتے ہوئے ایکس فون کو سرے سے مسترد کر دیں گے۔
زائد العمر نرگس کالج جانے والی لڑکیوں کی توجہ نہیں حاصل کر سکتیں۔ دیکھا جائے تو ایکس فونز بذات خود خراب نہیں۔ہائیر کے تیار کردہ یہ سیٹ 18 مہینے وارنٹی کے ساتھ آتے ہیں۔ اس میں لگی پری پیڈ سم میں 2 جی بی کا تھری جی ڈیٹا اور 800 روپے کا بیلنس ہے۔
تمام ایکس فونز میں اینڈروائیڈ 4.4 کٹ کیٹ، مناسب ریم اور سی پی یو ہے۔ مناسب فیچرز کے باوجود اشتہار فونز پر توجہ مبذول کرانے میں ناکام رہا ہے۔
موبی لنک کو لازماً اپنے اشتہارات میں خواتین کے بے دریغ استعمال کا رجحان ختم کرنا ہو گا۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موبی لنک کا نیا اشتہار سستی شہرت اورتنازع کھڑا کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
موبی لنک کی برانڈ ٹیم کو چاہیے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر از سر نو غور کرے۔
نوٹ: یہ آرٹیکل ڈان کے ارورا میگزین کی ویب سائٹ پر انگریزی زبان میں شائع ہوا جس کا اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے.