Pages

جاز ایکس: سستی شہرت کی ناکام کوشش؟



موبی لنک کی نئی اشتہاری مہم میں کوئی بنیادی پیغام یا برانڈ سٹوری نہیں، بلکہ اس میں ایک پرانی ترکیب کا سہارا لیا گیا ہے۔
’ایکس فونز‘ فروخت کرنے کیلئے جاز کی اشتہاری مہم ناصرف بدمزہ ، ذو معنی اور بے ذوق ہے بلکہ کئی قارئین کے لیے تشویش ناک حد تک اشتہار میں نازیبا تصویر استعمال کی گئی ہے۔
موبی لنک نے اشتہارات کی دنیا میں سب سے پرانی ترکیب پر انحصار کرتے ہوئے بولی وڈ اداکارہ نرگس فخری کی خدمات حاصل کیں۔
اشتہار میں نرگس سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ ہمیں ایک انجان موبائل فون خریدنے کی ترغیب دیں گی لیکن کیا یہ مایوس کن مارکیٹنگ صارفین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی؟  


اشتہار میں نا صرف خواتین کا غلط استعما ل کیا گیا بلکہ اس میں کمپنی بھی صارف کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ اشتہار میں جس طرح نرگس کو مرکز بنایا گیا ، اس کی موبائل ڈیوائس سے کوئی مطابقت بنتی نظر نہیں آئی۔
اشتہار بنانے والے اتنا تردد بھی نہیں کیا کہ ناظرین کو موبائل ڈیوائس کے فیچرز سے آگاہ کیا جائے۔وہ بھول گئے کہ یہ موبائل ڈیوائس آئی فون کی طرح پہلے سے اپنی کلاس نہیں رکھتی۔
انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بناتے کہ موبی لنک کے نئے فون کو کہیں کم تر نہ سمجھا جائے۔
ایکس فون کوایک ہیجان انگیز اور سستے فون کے طور پر پیش کیا گیا اور ایسا لگتا ہے کہ اس فون کا ہدف (ٹارگٹ آڈینس) ایک کالج جانے والی لڑکی ہے۔
برانڈ کے کرتا دھرتاؤں نےیہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس فون کو استعمال کرنے والا جنسی طور پر زیادہ پرکشش نظر آئے گا۔ تاہم ، بہت سے صارفین اس ترکیب کو بھانپتے ہوئے ایکس فون کو سرے سے مسترد کر دیں گے۔
زائد العمر نرگس کالج جانے والی لڑکیوں کی توجہ نہیں حاصل کر سکتیں۔ دیکھا جائے تو ایکس فونز بذات خود خراب نہیں۔ہائیر کے تیار کردہ یہ سیٹ 18 مہینے وارنٹی کے ساتھ آتے ہیں۔ اس میں لگی پری پیڈ سم میں 2 جی بی کا تھری جی ڈیٹا اور 800 روپے کا بیلنس ہے۔
تمام ایکس فونز میں اینڈروائیڈ 4.4 کٹ کیٹ، مناسب ریم اور سی پی یو ہے۔ مناسب فیچرز کے باوجود اشتہار فونز پر توجہ مبذول کرانے میں ناکام رہا ہے۔
موبی لنک کو لازماً اپنے اشتہارات میں خواتین کے بے دریغ استعمال کا رجحان ختم کرنا ہو گا۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موبی لنک کا نیا اشتہار سستی شہرت اورتنازع کھڑا کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
موبی لنک کی برانڈ ٹیم کو چاہیے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر از سر نو غور کرے۔
نوٹ: یہ آرٹیکل ڈان کے ارورا میگزین کی ویب سائٹ پر انگریزی زبان میں شائع ہوا جس کا اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے.