Advertisment

https://www.highrevenuegate.com/yngsgwcqf?key=569b6da6aa47358022f3b3136793b69a

Senond Menu

عائشہ عمر اور اظفر رحمٰن کار حادثے میں زخمی


ذرائع کے مطابق دونوں اداکار ملبوسات کے ایک اسٹور کے افتتاح کے سلسلے میں کراچی سے حیدرآباد جارہے تھے کہ سپر ہائی وے پر ان کی کار کو حادثہ پیش آیا.
اداکارہ اور میزبان انوشہ اشرف اور ماڈل عباس جعفری بھی عائشہ اور اظفر کے ساتھ ٹرپ میں شامل تھے،لیکن وہ ایک علیحدہ کار میں سفر کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق عائشہ اور اظفر کی گاڑی کو ایک دوسری گاڑی نے ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں ان کی کار سڑک سے پھسل کر کھائی میں جاگری۔
اداکاروں کو پہلے جامشورو ہسپتال لے جایا گیا اور پھر ابتدائی طبی امداد کے بعد انھیں ایمبولینس کے ذریعے کراچی کے نجی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق عائشہ عمر کی گردن کی ہڈی میں 2 فریکچر ہوئے جبکہ اظفر رحمٰن کو سر میں چوٹیں آئیں۔
گلوکار اور اداکار فخرِ عالم نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں دونوں کی صحت یابی کے لیے دعا کی درخواست کی۔

’مور‘ آسکر کی دوڑ سے باہر


غیرملکی جریدے ورائٹی کے مطابق اکیڈمی نے اس کیٹیگری کے لیے 9 فلموں کو شارٹ لسٹ کیا ہے جس میں جامی کی فلم 'مور' شامل نہیں ہے.
اکیڈمی نے جن فلموں کو شارٹ لسٹ کیا ہے اسن میں بیلجیئم کے ہدایت کار جیکو وین ڈورمیل کی فلم ’دی برینڈ نیو ٹیسٹامنٹ‘، کولمبیا سے ہدایت کار سیرو گیورا کی فلم ’ایمبریس آف دی سرپنٹ‘، ڈنمارک سے ہدایت کار توبیس لنڈہولم کی فلم ’آ وار‘، فن لینڈ سے ہدایت کار کلاوس حارو کی فلم ’دی فرینسر‘، فرانس سے ہدایت کار ڈینز گیمز ارگووین کی فلم ’مستانگ‘، جرمنی سے ہدایت کار گیولیو ریسیاریلی کی فلم ’لیبیرنتھ آف لائس‘، ہنگری سے ہدایت کار لاسزلو نیمز کی فلم ’سب آف سول‘، آئر لینڈ سے ہدایت کار پیڈی بریتھناچ کی فلم ’وائوا‘ اور اردن سے ہدایت کار ناجی ابو نوور کی فلم ’تھیب‘۔
'مور' کے ایوارڈ کی دوڑ سے باہر ہونے کے باوجود تاہم ابھی بھی آسکر ایوارڈز میں پاکستان کی امیدیں زندہ ہیں۔
پاکستانی ہدایت کار شرمین عبید چنائے کی فلم ’آ گرل ان دی ریور: دی پرائز آف فارگونس‘ بہترین دستاویزی فلم کی کیٹیگری میں شارٹ لسٹ کی گئی 9 فلموں میں شامل ہے۔
شرمین عبید چنائے اور ہوم باکس آفس کی مشترکہ پروڈکشن میں بنی یہ دستاویزی فلم غیرت کے نام پر قتل کے موضوع پر مبنی ہے۔
اس حوالے سے منتخب کی گئی آخری پانچ فلموں کا اعلان 14 جنوری کو کیا جائے گا۔

’ہندوستانی اکثریت پاکستان کے خلاف نہیں‘



ڈان نیوز کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے اوم پوری کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان متعدد بار آچکے ہیں اور لاہور کی ثقافت اور مہمان نوازی انہیں خاصی پسند ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں پاکستان کی تہذیب سے کم سے کم چالیس سال سے واقف ہوں، میں اپنی فلموں کے ذریعے پوری دنیا میں گھوما، ہندوستانی اور پاکستانی دنیا کے ہر کونے میں ملتے ہیں اور نہایت محبت سے پیش آتے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے ہندوستانی اور پاکستانیوں کے آپس میں تعلقات دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ نفرت کہاں ہے؟ عوام میں تو نفرت بالکل نہیں‘۔
اوم پوری کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا ماننا ہے دونوں ملکوں میں بہت چھوٹا طبقہ ایسا ہے جو گمراہ کن اور نفرت پھیلا رہا ہے اور میری ان سے گزارش ہے کہ ہم پر رحم کریں اور ہمارے لوگوں کو نقصان پہنچانا بند کردیں‘۔
ہندوستان کی حکومت کا ذکرکرتے ہوئے اوم پوری کا کہنا تھا کہ ’اگر ہمارے درمیان کے بھائی چارے کو کوئی حکومت نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گی تو وہ کامیاب نہیں ہوگی‘۔
بولی وڈ اداکار عامر خان کے عدم برداشت کے بیان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عامر کے بیان کو کہیں نہ کہیں وہ غیر ذمہ دارانہ سمجھتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستانی اکثریت پاکستانیوں کے خلاف نہیں ہے۔
فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ میں اپنے مختصر کردار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’میں نے کبھی کسی چھوٹے کردار سے منع نہیں کیا میں کسی فلم میں ایک سین بھی کر سکتا ہوں بس اچھا کام ضروری ہے‘۔
نئے سال کے لیے انہوں نے دونوں ممالک میں بسنے والے لوگوں کو اچھا پیغام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے محبت کا خزانہ لے کر جارہے ہیں اور لوگوں کو امن کا پیغام دیتے ہیں کہ محبت لوگوں کو طاقت دیتی ہے اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور امن سے رہنا چاہیے۔

ٹرمینیٹر-2 کا تھری ڈی ورژن


آرنلڈ شوازنیگر کی بلاک بسٹر فلم کی 25 ویں سالگرہ پر تھری ڈی ورژن لانے کا مقصد اسے ان ناظرین تک پہنچانا ہے جو اسے بڑی اسکرین پر نہیں دیکھ سکے، مثلاً چین میں کبھی اس کا اصل پرنٹ نہیں چل سکا تھا۔
امید ہے کہ کیمرون اور ان کی ٹیم اس فلم سے ایک مرتبہ پھر بڑا منافع کمائیں گے۔
کیمرون نے 2012 میں اپنی 15 سال پرانی بلاک بسٹر ’ٹائی ٹینک‘ کےتھری ڈی ورژن سے دنیا بھر میں 343 ملین ڈالرز کمائے تھے۔
ٹرمینیٹر کے تھری ڈی ورژن کو شاید اتنی پزیرائی نہ مل سکے، لیکن یقیناًکیمرون کو اپنی اس کوشش پر افسوس ہرگز نہیں ہو گا۔

اکشے ’روبوٹ-2‘ کے ولن؟



ہندی کے ساتھ ساتھ تامل میں ’انتھران-2‘ کے نام سے ریلیز ہونے والی اس فلم میں تامل سینما کے آئیکون رجنی کانت مرکزی کردار جبکہ ہولی وڈ کی ایما جیکسن ان کی محبوبہ بنیں گی۔
اطلاعات ہیں ’روبوٹ-2‘ اب تک ہندوستان کی سب سے مہنگی فلم ہو گی۔
فلم ساز ولن کیلئے پہلے مبینہ طور پرعامر خان کو کاسٹ کرنا چاہتے تھے مگر بعد میں انہوں نے’ٹرمینیٹر‘ کے آرنلڈ شوازینیگر کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
ذرائع کے مطابق،آرنلڈ کی انڈیا آمد اور کام کرنے کیلئے بہت زیادہ کاغذی کارروائی درکار تھی، لہذا دو دن قبل ان سے بات چیت کا عمل ناکام ہو گیا۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، اکشے گزشتہ شام شنکر اور فلم کی بقیہ کاسٹ سے چنئی میں ملنے کے بعد نجی طیارے کے ذریعے ممبئی لوٹ گئے۔
چنئی روانگی سے قبل اکشے سے رجنی کانت کے ساتھ ملاقات کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کیا۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ فلم پروڈیوسرز کچھ دنوں میں اکشے کو کاسٹ کرنے کا اعلان کریں گے۔

سینئر ڈرامہ نگار کمال احمد رضوی کا انتقال


پاکستان کے سینئر ڈرامہ نگار اور اداکار کمال احمد رضوی طویل علالت کے بعد 85 سال کی عمر میں جمعرات کو انتقال کر گئے۔
پی ٹی وی کے لازوال مزاحیہ ڈارمہ ’الف-نون‘ لکھنے اور اس میں الن کا کردار ادا کرنے والے رضوی کافی عرصے سے بیمار تھے۔
یکم مئی 1930ء کو بہار، ہندوستان میں پیدا ہونے والے رضوی 1951ء میں پاکستان آنے کے بعد کچھ عرصہ کراچی میں رہے اور پھر لاہور منتقل ہوگئے۔
انہوں نے 1958ء میں تھیٹر سے فنی کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1965ء میں پہلی دفعہ الف -نون شروع کیا جس میں انہوں نے خود الّن کا اور رفیع خاور نے ننھے کا کردار ادا کیا۔
الف -نون پی ٹی وی کا مقبول ترین پروگرام تھا مختلف سالوں میں چارمرتبہ ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔
’آپ کا مخلص‘، ’صاحب بی بی اور غلام‘ اور ’مسٹر شیطان‘ ان کے دوسرے مشہور ڈرامہ سیریز تھیں۔
ان کی بے پناہ صلاحیتوں کے اعتراف میں حکومت نے انھیں 14 اگست 1989ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔

Red Carpet Launch of First Look Manto Film

Manto is a Geo Films Production which is directed by Babar Javaid the movie is based on revellious and passionate writer Saadat Hasan Manto.
Sarmad Khoosat played the role of legendary Manto. The history has been loved and hated for his short stories which describe the sensitive and taboo issues of the society throughout and after partition.
In the movie there are numbers of incredible actors of Pakistan Entertainment Industry such as Saba Qamar, Nimra Bucha, Mahira Khan, Sania Saeed, Tipu Sharif, Yasir Rizvi and some others, as well Sarmad Khoosat is prepared to grab your attention along with his amazing acting talents as Manto in this movie.
In this event there designers, media professionals, fashion models and celebrities such as Marina Khan, Aamir Qureshi, Adnan Jaffri,Aamna Isani, Aijaz Aslam, Amna Ilyas, Anoushay, Ali Safina, Alee Shaikh, Saba Khan, Amir Qureshi, Ghana Ali,Babar Javed, Ekra Fayz, Emraan Rajput, Gohar Rasheed, Ghana Ali, Farhat Kapadia, Hina Bayat, Hina Rizvi, Irfan Khoosat, Junaid Khan, Meesha Shafi, Nausheen Shah, Fahad Mirza, Sarmad Khoosat, Nighat, Nadia Afgan, Anoushay, Saba Hameed, Sana Sultan, YBQ, Hina Rizvi, Hina Bayat, Ushna Shah, Tipu Sharif, Tapu Javeri, Shahnaz Ramzi, Seher Paracha, Savera Nadeem, Sarwat Gillani, Babar Javed, Irfan Khoosat and more.

سپنوں کا شہزادہ کہا ں ہے ،آئندہ عید الفطر پہلے شادی کر سکتی ہوں ۔ میرا

اداکارہ میرانے کہا ہے کہ میر اسپنوں کا شہزادہ کہاں ہے مجھے فی الحال اس بارے میں کچھ پتہ نہیں اور میری شادی کہاں ہونی ہے اسکے بارے میں بھی ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا  انہوں نے  انٹرویو میں کہا  میںاب چاہتی ہوں کی میں اپنا گھر بسالوں اور آئندہ عید الفطر سے پہلے میں بھی اپنے سپنوں کے شہزادے سے شادی کر سکتی ہوں ،مگر میرے سپنوں کا راجا کہاں ہے مجھے ابھی تک اسکا کچھ پتہ نہیں ٴآنیوالے دنوں میں فلموں میں مزید بہتر اندازمیں کام کرتی نظر آؤں گی۔

ڈاکٹر شائستہ لودھی نے دوسری شادی کرلی

معروف مارننگ شو میزبان ڈاکٹر شائستہ لودھی نے دوسری شادی کرلی ۔ جس کے بارے میںڈاکٹر شائستہ لودھی نے اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ کے ذریعے بتایا ۔ڈاکٹر شائستہ لودھی نے شادی کی تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاﺅنٹ پر شیئر کی ہے جس کے ساتھ ایک شخص جس کا چہرہ نہیں دیکھ رہا وہ شائستہ لودھی کو انگوٹھی پہنارہے ہیں جبکہ شائستہ لودھی نے قرآنی آیات کے ساتھ اپنی دوسری شادی سے آگاہ کرتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا ہے ۔

واجاں ماریاں ، بلایا کئی وار وے، عالم لوہا ر کی چھتیسویں برسی

موسیقی میں جگنی کے خالق اور چمٹے کو متعارف کرانے والے محمد عالم لوہار کو دنیا چھوڑے چھتیس برس گذر گئے۔ وہ یکم مارچ 1928 میں گجرات میں پیدا ہوئے وہ 3 جولائی 1979میں ٹریفک حادثے میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ موسیقی کے شوق کی تکمیل کیلئے عالم لوہار نے گھر چھوڑا اور تھیٹر کمپنیوں سے وابستہ ہو گئے۔ تھیٹر کمپنی بنانے کے ساتھ ساتھ قیام پاکستان کے بعد بھی عالم لوہار ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویڑن میں بھی اپنے سروں کا جادو جگاتے رہے۔ عالم لوہار کو 1971 میں ملکہ الزبتھ کے مہمان بننے کا بھی اعزاز حاصل ہوا جبکہ سابقہ صدر ایوب خان بھی ان کے بڑے مداح تھے۔ ایک مرتبہ عالم لوہار بیمار ہونے پر عالم لوہار کو ہسپتال داخل کر دیا ۔ جہاں ڈاکٹر اور نرسیں ان پر توجہ نہ دے رہے تھے جس پر انہوں نے اونچی آواز میں گانا شروع کر دی واجاں ماریا ں بلایا کئی وار وے ۔۔کسی نے میری گل نہ سنی۔ ان کے اس گانے پر کئی ڈاکٹر اور نرس فوری طور پر وہاں پہنچ گئے اور انہیں معلوم ہو گیا کہ ایک بہت بڑافنکار ان کا مریض بنا ہے۔ عالم لوہا ر کے صاحبزادے عارف لوہا ر اور عارف لوہار کے صاحبزادے بھی عالم لوہا ر کی گائیکی کا تسلسل جاری  رکھ ہوئے ہیں۔